سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 3512

نمبر 3512کتاب 27، نمبر 124
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَذَاكَرُوا عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْتَدُّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ‏.‏ فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے، ابوہریرہ، ابن عباس (رضی الله عنہم) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مر گیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی، ابوسلمہ نے کہا: نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی ( دوسرے کے لیے ) حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ان کا ہم خیال ہوں ) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 27 · The Book of Divorce

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔