أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلاَلٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلاً غَزَا يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ شَىْءَ لَهُ " . فَأَعَادَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ شَىْءَ لَهُ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ " .
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور عرض کیا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو جہاد میں اجر اور شہرت کی طلب میں شریک ہوتا ہو؟ اسے کیا ملے گا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" اس نے اپنا سوال تین بار دوہرایا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار یہی کہا کہ "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" پھر فرمایا : "بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔"
جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔
عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔