سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 2458

نمبر 2458کتاب 23، نمبر 24
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّرْقَاءِ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَاعِيًا فَأَتَى رَجُلاً فَأَتَاهُ فَصِيلاً مَخْلُولاً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَعَثْنَا مُصَدِّقَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنَّ فُلاَنًا أَعْطَاهُ فَصِيلاً مَخْلُولاً اللَّهُمَّ لاَ تُبَارِكْ فِيهِ وَلاَ فِي إِبِلِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَجَاءَ بِنَاقَةٍ حَسْنَاءَ فَقَالَ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ ‏"‏ ‏.‏
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، وہ ایک شخص کے پاس آیا، اس نے اسے اونٹ کا ایک دبلا بچہ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے محصل زکاۃ ( صدقہ وصول کرنے والے ) کو بھیجا، فلاں شخص نے اسے ایک دبلا کمزور، دودھ چھوڑا ہوا بچہ دیا۔ اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ دے“، یہ بات اس آدمی کو معلوم ہوئی تو وہ ایک اچھی اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: میں اللہ عزوجل سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت فرما“۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 23 · The Book of Zakah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔