سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 2436

نمبر 2436کتاب 23، نمبر 2
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ - لأَصَابِعِ يَدَيْهِ - أَنْ لاَ آتِيَكَ وَلاَ آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لاَ أَعْقِلُ شَيْئًا إِلاَّ مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْىِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا قَالَ ‏"‏ بِالإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا آيَاتُ الإِسْلاَمِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ‏"‏ ‏.‏
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ“، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو“۔
ماخذ میں درج درجات
  • Hasan IsnaadAbu Ghuddah
  • Hasan IsnaadAl-Albani
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 23 · The Book of Zakah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔