سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 1981

نمبر 1981کتاب 21، نمبر 164
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ شَىْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَمَاتَتْ لَيْلاً فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“ تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 21 · The Book of Funerals

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔