سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 1953

نمبر 1953کتاب 21، نمبر 136
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ ثُمَّ قَالَ أُهَاجِرُ مَعَكَ ‏.‏ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ غَنِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ ‏"‏ قَسَمْتُهُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَا هُنَا - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ - فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ تَصْدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَبِثُوا قَلِيلاً ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهُوَ هُوَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ كَفَّنَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَدَّمَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَكَانَ فِيمَا ظَهَرَ مِنْ صَلاَتِهِ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
شداد بن ہاد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک بادیہ نشین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ پر ایمان لے آیا، اور آپ کے ساتھ ہو گیا، پھر اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو اس کا خیال رکھنے کی وصیت کی، جب ایک غزوہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں ملیں، تو آپ نے انہیں تقسیم کیا، اور اس کا ( بھی ) حصہ لگایا، چنانچہ اس کا حصہ اپنے ان اصحاب کو دے دیا جن کے سپرد اسے کیا گیا تھا، وہ ان کی سواریاں چراتا تھا، جب وہ آیا تو انہوں نے ( اس کا حصہ ) اس کے حوالے کیا، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے لگایا تھا، تو اس نے اسے لے لیا، ( اور ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا حصہ دیا ہے“، تو اس نے کہا: میں نے اس ( حقیر بدلے ) کے لیے آپ کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ میں نے اس بات پر آپ کی پیروی کی ہے کہ میں تیر سے یہاں مارا جاؤں، ( اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ) پھر میں مروں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا“، پھر وہ لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر دشمنوں سے لڑنے کے لیے اٹھے، تو انہیں ( کچھ دیر کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا، اور انہیں ایسی جگہ تیر لگا تھا جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ وہی شخص ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تو ( اللہ تعالیٰ ) نے ( بھی ) اپنا وعدہ اسے سچ کر دکھایا“ ۱؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جبّے ( قمیص ) میں اسے کفنایا، پھر اسے اپنے سامنے رکھا، اور اس کی جنازے کی نماز پڑھی ۲؎ آپ کی نماز میں سے جو چیز لوگوں کو سنائی دی وہ یہ دعا تھی: «اللہم هذا عبدك خرج مهاجرا في سبيلك فقتل شهيدا أنا شهيد على ذلك» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، یہ تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا، اور شہید ہو گیا، میں اس بات پر گواہ ہوں“۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 21 · The Book of Funerals

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔