سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 1907

نمبر 1907کتاب 21، نمبر 90
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَرَضِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلاً وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلاً ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ‏.‏
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا ( تو ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو ( رات میں ) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے صحابہ کے ساتھ ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 21 · The Book of Funerals

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔