سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 1294

نمبر 1294کتاب 13، نمبر 116
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏ فِي حَدِيثِ الْحَارِثِ ‏"‏ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ جَمِيعًا ‏"‏ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّتَيْنِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ سَقَطَ عَلَيْهِ مِنْهُ شَطْرٌ ‏.‏
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں ( صحابہ ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) کیسے بھیجیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وأزواجه وذريته»، یہ صرف حارث کی روایت میں ہے «كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته‏»۔ یہ دونوں کی روایت میں ہے «كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد»۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: قتیبہ نے اس حدیث کو مجھ سے دو بار بیان کیا، اور شاید کہ ان سے کچھ حصہ اس حدیث کا چھوٹ گیا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 13 · The Book of Forgetfulness (In Prayer)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔