سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5569

نمبر 5569
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لُعِنَ الْوَاصِلاَتُ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏"‏ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ ‏"‏ ‏.‏
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی ، کہا : مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے ا پنی بیٹی کی شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تو اس کے بال جھڑ گئے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتاہے ، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگادوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کسی کتاب کے تحت نہیں رکھی گئیں

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔