سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2050

نمبر 2050کتاب 8، نمبر 6عربی نمبر شمار 886.02
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلاَةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلاَ تُؤَذِّنْ لَهَا - قَالَ - فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ - قَالَ - فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ‏.‏
۔ محمد بن رافع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کے آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطرکے دن نماز ( عید کے لیے اذان نہیں دی جا تی تھی لہذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور ( عہد نبوی اور خلا فت راشدہ میں ) ایسے ہی کیا جا تا تھا ( عطاء نے ) کہا : تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھا ئی ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 8 · The Book of Prayer - Two Eids

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔