سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 1911

نمبر 1911کتاب 6، نمبر 339عربی نمبر شمار 822.04
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي، وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا - قَالَ - فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً - قَالَ - فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلاَ تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ فَقُلْنَا لاَ إِلاَّ أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ ‏.‏ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا - فَقَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ - قَالَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم
مہدی بن میمون نے کہا : واصل حدب نے ہمیں ابو وائل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعدحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے دروازے سے ( انھیں ) سلام عرض کیا ، انھوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ، ہم کچھ دیر دروازے پر رکے رہے ، اتنے میں ایک بچی نکلی اور کہنے لگی : کیا آپ لوگ اندر نہیں آئیں گے؟ ہم اندر چلے گئے اور وہ بیٹھے تسبیحات پڑھ رہے تھے ، انھوں نے پوچھا : جب آپ لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو پھر آنے میں کیارکاوٹ تھی؟ہم نے عرض کی : نہیں ( رکاوٹ نہیں تھی ) ، البتہ ہم نے سوچا ( کہ شاید ) گھر کے بعض افراد سوئے ہوئے ہوں ۔ انھوں نے فرمایا : تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے متعلق غفلت کا گمان کیا؟ پھر دوبارہ تسبحات میں مشغول ہوگئے حتیٰ کہ انھوں نے محسوس کیا کہ سورج نکل آیا ہوگا تو فرمایا : اے بچی!دیکھو تو! کیا سورج نکل آیا ہے؟اس نے دیکھا ، ابھی سورج نہیں نکلا تھا ، وہ پھر تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ پھر جب انھوں نے محسوس کیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے تو کہا اے لڑکی!دیکھو کیاسورج طلوع ہوگیا ہے اس نے د یکھا تو سورج طلوع ہوچکا تھا ، انھوں نے فرمایا : اللہ کی حمد جس نے ہمیں یہ دن لوٹا دیا ۔ مہدی نے کہا : میرے خیال میں انھوں نے یہ بھی کہا ۔ ۔ ۔ اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں ہلاک نہیں کیا ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے کل رات تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی ، اس پر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تیزی سے ، جس طرح شعر تیز پڑھے جاتے ہیں؟ہم نے باہم ملا کر پڑھی جانے والی سورتوں کی سماعت کی ہے ۔ اور مجھے وہ دو دو سورتیں یاد ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھےمفصل میں سے اٹھارہ سورتیں اور دوسورتیں حمٰ والی ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 6 · The Book of Prayer - Travellers

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔