سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7357

نمبر 7357کتاب 54، نمبر 119عربی نمبر شمار 2930.02
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّالله عليه وسلم وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلاَمًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ قَالَ أُبَىٌّ - يَعْنِي فِي قَوْلِهِ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ - قَالَ لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ ‏.‏
صالح نے ابن شہاب سےروایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا پنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جماعت کے ساتھ جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ، تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دیکھا ۔ وہ اس وقت بلوغت کی عمر کوپہنچنے کے قریب ایک لڑکا تھا ، وہ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہاتھا ۔ اور عمر بن ثابت کی حدیث کے اختتام تک یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ اور یعقوب سے روایت کردہ حدیث میں کہا : ابی ( ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو واضح کردیتا ۔ " کے بارے میں کہا ، اگر اس کی ماں اسے چھوڑ دیتی تو ا پنا معاملہ وہ واضح کردیتا ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 54 · The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔