سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7287

نمبر 7287کتاب 54، نمبر 53عربی نمبر شمار 2901.03
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَقَالَ الآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ‏.‏
محمد بن جعفر نےکہا : ہمیں شعبہ نے فرات سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابو سریحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر تے ہوئے سنا : انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اوراہم اس کے نیچے باتیں کررہے تھے ، اور ( آگے ) اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ شعبہ نے کہا : اور میرا خیال ہے ( کہ فرات نے ) کہا : وہ جب قیام کے لئے رکیں گے تو وہ ( آگ ) بھی ان کے ساتھ رک جائے گی اور جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ سکون پذیر ہوجائے گی ۔ شعبہ نےکہا : مجھے کسی شخص نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضر ت ابو سریحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی اور اسے مرفوع بیان نہیں کیا ۔ کہا : ان دونوں ( کسی شخص اورفرات قزاز ) میں سے ایک نے کہا : "" عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول "" اور ددسرے نے کہا : "" ہواجو انھیں سمندر میں لاڈالے گی ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 54 · The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔