سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7048

نمبر 7048کتاب 52، نمبر 4عربی نمبر شمار 2786.03
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَالْخَلاَئِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا : میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں بادشاہ میں ہوں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ( اس بات پر ) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، پھرآپ نے ( اس آیت کی ) تلاوت کی : " انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ( اس طرح قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے ۔)

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 52 · Characteristics of the Day of Judgment, Paradise, and Hell

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔