سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7029

نمبر 7029کتاب 51، نمبر 6عربی نمبر شمار 2775.01
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي، مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ وَقَالَ الآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین آدمی بیت اللہ کے پاس اکٹھے ہوئے ، ( ان میں سے ) دو قریشی تھے اور ایک ثقفی تھا ، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی تھا ، ان کے دلوں کا فہم کم تھا ، ان کے پیٹوں کی چربی بہت تھی ۔ ان میں سے ایک نے کہا : کیا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں ، اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا : اگر ہم اونچی آواز سے بات کریں تو سنتا ہے اور آہستہ بات کریں تو نہیں سنتا ۔ تیسرے نے کہا : اگر ہم اونچا بولیں تو وہ سنتا ہے تو پھر ہم آہستہ بولیں تو بھی سنتا ہے ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیتیں ) نازل فرمائیں : " تم اس لیے ( اپنی باتیں ) نہیں چھپا رہے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 51 · Characteristics of The Hypocrites And Rulings Concerning Them

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔