سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7023

نمبر 7023کتاب 50، نمبر 68عربی نمبر شمار 2771
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏ "‏ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ اخْرُجْ ‏.‏ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد ( آپ کے فرزند کی والدہ ) کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے ( کم گہرے ) کنویں میں ٹھنڈک کے لیے غسل کر رہا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : نکلو ، اور ( سہارا دینے کے لیے ) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اس کو قتل کرنے سے ) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 50 · The Book of Repentance

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔