سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 7014

نمبر 7014کتاب 50، نمبر 60عربی نمبر شمار 2767.04
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ‏"‏ ‏.‏ فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو رَوْحٍ لاَ أَدْرِي مِمَّنِ الشَّكُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏
(ابوروح ) حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شداد ابو طلحہ راسبی نے غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں جیسے ( بڑے بڑے ) گناہ لے کر آئیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ گناہ بخش دے گا ، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، وہ ان ( گناہوں ) کو یہود اور نصاری پر ڈال دے گا ۔ "" ابو روح نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ یہ شک کس ( راوی ) کی طرف سے ہے ۔ حضرت ابو بردہ نے کہا : میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تھی؟ میں نے کہا : ہاں ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 50 · The Book of Repentance

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔