نمبر 1274کتاب 5، نمبر 112عربی نمبر شمار 572.01
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِبْرَاهِيمُ زَادَ أَوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ - فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا : آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی ۔ پھر جب آپ نے سلام پھرا تو آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نئی چیز ( تبدیلی ) آگئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : ’’وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ ( راوی نے کہا : ) آپ نے اپنے پاؤں موڑے ، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا ، لیکن میں ایک انسان ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہومیں بھی بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور ا س کے مطابق ( نماز کی ) تکمیل کرے ، پھر ( سہو کے ) دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔