نمبر 1256کتاب 5، نمبر 94عربی نمبر شمار 565
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ، خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلاً شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرِّيحَ فَقَالَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلاَ يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ " . فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ . فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بومحسوس کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘ اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے ۔ ‘ ‘
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔