سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 1189

نمبر 1189کتاب 5، نمبر 29عربی نمبر شمار 533.01
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى - قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ - يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عِيسَى فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
۔ ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ دونوں نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے ابن وہب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عمرو نے خبر دی کہ بکیر نے ان سے حدیث بیان کی ، انہیں عاصم بن عمر بن قتادہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ، جب رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی نئے سے سے تعمیر کے وقت لوگوں نے ان کے بارے میں باتیں کیں ، یہ کہتے سنا : تم نے بہت بتایں کی ہیں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ‘ ‘ بکیر نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ کہا : ’’ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ ‘ ‘ احمد بن عیسیٰ نے اپنی روایت میں مثله في الجنة ’’جنت میں اس جیسا ( گھر ) ‘ ‘ کہا ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 5 · The Book of Mosques and Places of Prayer

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔