سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6755

نمبر 6755کتاب 46، نمبر 33عربی نمبر شمار 2658.01
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَى مُدْرِكٌ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلاَمُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ ‏"‏ ‏.‏
زُبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت ( اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں ، جیسے ایک جانور ( ماں ) کامل الاعضاء جانور ( بچے ) کو جنم دیتی ہے ، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟ " پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی ، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 46 · The Book of Destiny

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔