سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6725

نمبر 6725کتاب 46، نمبر 3عربی نمبر شمار 2644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَيُكْتَبَانِ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى فَيُكْتَبَانِ وَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ فَلاَ يُزَادُ فِيهَا وَلاَ يُنْقَصُ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن دینار نے ابوطفیل ( عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ) سے ، انہوں نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( مرفوع بیان کی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب نطفہ ( چالیس چالیس دنوں کے دو مرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے میں ) چالیس یا پینتالیس راتیں رحم میں ٹھہرا رہتا ہے تو ( اللہ کا مقرر کیا ہوا ) فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے : اے رب! یہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ہو گا؟ تو دونوں ( باتوں میں سے اللہ کو بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر کہتا ہے : اے رب! یہ مرد ہے یا عورت؟ پھر دونوں ( میں سے جو اللہ بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر اس کا عمل ، اس کے قدموں کے نشانات ، اس کی مدت عمر اور اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے ، پھر ( اندراج کے ) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں ، پھر ان میں کوئی چیز بڑھائی جاتی ہے ، نہ کم کی جاتی ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 46 · The Book of Destiny

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔