سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6694

نمبر 6694کتاب 45، نمبر 191عربی نمبر شمار 2630
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ زِيَادَ، بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلاَثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
عراک بن مالک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں ، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں ، اس نے کہا ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، ( بچی ہوئی ) ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی ، تو وہ بھی اس کی دو بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی ، اس نے وہ کھجور بھی جو وہ کھانا چاہتی تھی ، دو حصے کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دی ۔ مجھے اس کا یہ کام بہت اچھا لگا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " اللہ نے اس ( عمل ) کی وجہ سے اس کے لیے جنت پکی کر دی ہے یا ( فرمایا : ) اس وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔