سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6549

نمبر 6549کتاب 45، نمبر 47عربی نمبر شمار 2567.01
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ‏.‏ قَالَ هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا قَالَ لاَ غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالاعلیٰ بن حماد نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابورافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : ا " ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے گیا جو دوسری بستی میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی نگرانی ( یا انتظار ) کے لیے مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس ( فرشتے ) کے سامنے آیا تو اس نے کہا : کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : میں اپنے ایک بھائی کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اس بستی میں ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے مکمل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے ۔ اس نے کہا : تو میں اللہ ہی کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا جانے والا قاصد ہوں کہ اللہ کو بھی تمہارے ساتھ اسی طرح محبت ہے جس طرح اس کی خاطر تم نے اس ( بھائی ) سے محبت کی ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔