نمبر 6306کتاب 44، نمبر 136عربی نمبر شمار 2448.02
وَحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ . وَلَمْ يَشُكَّ وَقَالَ قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ . وَقَالَ وَصِفْرُ رِدَائِهَا وَخَيْرُ نِسَائِهَا وَعَقْرُ جَارَتِهَا . وَقَالَ وَلاَ تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا . وَقَالَ وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا .
سعید بن سلمہ نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ بیان کی ، مگر ( ساتویں کے خاوندکے متعلق ) شک کے بغیر : " عاجز اور ماندہ ہے عقل پر حماقت کی تہیں لگی ہو ئی ہیں " کہا : اور ( دسویں کے خاوند کے متعلق ) کہا : ( اس کی اونٹنیاں ) چراگا ہوں میں کم بھیجی جا تی ہیں ( خدام باڑے میں چارہ مہیا کرتے ہیں ۔ ) اور ( ابو زرع کی بیٹی کےبارے میں ) کہا : اس کی اوڑھنے کی چادر خالی لگتی ہے ( اس کا پیٹ بڑھا ہوا نہیں ہے جبکہ ملء كسائهاسے مراد ہے کہ جسم کے باقی حصے لباس کو بھر دیتے ہیں ) قبیلے کی بہترین عورت ہے اور ( اپنی خوبصورتی اور وقار کی بناپر ) سوکن کے لیے نیزے کا زخم ( دردوتکلیف کا سبب ) ہے اور ( خادمہ کے بارے میں اس طرح ) کہا : " وہ ہمارا کھا نا ضائع نہیں کرتی ۔ " اور ( " وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا " کے بجائے ) وأعطاني من كل ذابحةٍ زوجاً ، ( اور مجھے ہر اعلیٰ درجے کی خوشبو دار چیز میں سے دگنا دگنا دیا ) کہا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔