سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6273

نمبر 6273کتاب 44، نمبر 103عربی نمبر شمار 2432
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ وَمِنِّي ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زرعہ سے ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ خدیجہ ہیں ، آپ کے پاس آئی ہیں ، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے ، چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو انھیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انھیں جنت میں ایک گھر کی خوش خبری دیں جو ( موتیوں کی ) لمبی چھڑیوں کا بنا ہواہے ، نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا : "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے ۔ "" انھوں نے "" میں نے سنا "" ( کا لفظ ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں "" اورمیری طرف سے "" ( کالفظ ) کہا ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 44 · The Book of the Merits of the Companions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔