سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6182

نمبر 6182کتاب 44، نمبر 13عربی نمبر شمار 1028.02
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریا فت کیا : " آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا ۔ ؟ " ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا ؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ۔ ؟حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہو تے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 44 · The Book of the Merits of the Companions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔