سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6088

نمبر 6088کتاب 43، نمبر 146عربی نمبر شمار 2346
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ ثَرِيدًا - قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَكَ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ‏}‏ قَالَ ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيلاَنٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ ‏.‏
عاصم احول نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا اور میں نے آپ کے ساتھ روٹی اورگوشت یا کہا : ثریدکھایاتھا ، ( عاصم نے ) کہا : میں نے ان ( عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے لئے دعائے مغفرت کی تھی ، انھوں نے کہا : ہاں ، اورتمھارے لئے بھی ، پھر یہ آیت پڑھی ، "" اور اپنے گناہ کے لئے استغفار کیجئے اور ایماندار مردون اور ایماندار عورتوں کے لئے بھی ۔ "" کہا : پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے ہواتو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ، آپ کے بائیں شانے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح ، اس پر خال ( تل ) تھے جس طرح جلد پر آغاز شباب کے کالے نشان ہوتے ہیں ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 43 · The Book of Virtues

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔