سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 6022

نمبر 6022کتاب 43، نمبر 80عربی نمبر شمار 2313
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَىَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏.‏
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی ، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سواونٹ پھر سواونٹ ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 43 · The Book of Virtues

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔