نمبر 6006کتاب 43، نمبر 65عربی نمبر شمار 2307.01
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ " لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا " . قَالَ " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ " . قَالَ وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ .
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادرتھے ۔ ایک رات اہل مدینہ ( ایک آواز سن کر ) خوف زدہ ہو گئے ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس آواز کی طرف گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس جگہ سے واپس آتے ہو ئے ملے ، آپ سب سے پہلے آواز ( کی جگہ ) تک پہنچے ، آپ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، آپ کی گردن مبارک میں تلوار حمائل تھی اور آپ فر ما رہےتھے ۔ " خوف میں مبتلا نہ ہو خوف میں مبتلانہ ہو " ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم " ہم نے اس ( گھوڑے ) کو سمندر کی طرح پا یا ہے یا ( فرما یا ) وہ تو سمندر ہے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور ( اس سے پہلے ) وہ سست رفتار گھوڑا تھا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔