سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5840

نمبر 5840کتاب 39، نمبر 191عربی نمبر شمار 2236.02
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ - وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ - قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ، سَرِيرِهِ حَرَكَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ صَيْفِيٍّ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلاَثًا فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلاَّ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لَهُمُ ‏"‏ اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
جریر بن حا زم نے کہا : میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، جسے سائب کہا جا تا تھا ۔ وہ ہمارے نزدیک ابو سائب ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہو ئے ، ہم بیٹھے ہو ئے تھے جب ہم نے ان کی چار پا ئی کے نیچے ( کسی چیز کی ) حرکت کی آواز سنی ۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا ، پھر انھوں نے پو رے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے ۔ جب تم ان میں سے کو ئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو ( تا کہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جا ئیں ) اگر وہ پہلے جا ئیں ( تو ٹھیک ) ورنہ ان کو مار دوکیونکہ پھر وہ ( نہ جا نے والا ) کا فر ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جاؤاور اپنے ساتھی کو دفن کردو ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 39 · The Book of Greetings

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔