سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5797

نمبر 5797کتاب 39، نمبر 149عربی نمبر شمار 2222.03
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ غُولَ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ ‏"‏ وَلاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ ‏.‏ فَقِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ قَالَ كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ ‏.‏ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ ‏.‏
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگ جا تا ، نہ صفر ( کی نحوست ) اور چھلاوا کو ئی چیز ہے ۔ ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے ابو زبیر کو یہ ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان " ( وَلَا صَفَر ) کی وضاحت کی ، ابو زبیر نے کہا : صفر پیٹ ( کی بیماری ) ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیسے ؟انھوں نے کہا : کہا جا تا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندربننے والے جانور مراد ہیں ۔ کہا : انھوں نے غول کی تشریح نہیں کی ، البتہ ابو زبیر نے کہا : یہ غول ( وہی ہے جس کے بارے میں کہا جا تا ہے ) جو رنگ بدلتا ہے ( اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مارڈالتا ہے ۔)

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 39 · The Book of Greetings

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔