سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5122

نمبر 5122کتاب 35، نمبر 58عربی نمبر شمار 1977.08
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
ابواسامہ نے کہا : مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی ، کہا : عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے ، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے ، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا : سعید بن مسیب اس فعل ( عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے ) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں ۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا : بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کردی گئی ہے ۔ ، ( یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے ) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے محمد بن عمر و سے معاذ کی حدیث کےہم معنی حدیث بیان کی ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 35 · The Book of Sacrifices

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔