سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5031

نمبر 5031کتاب 34، نمبر 60عربی نمبر شمار 1943.05
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الضَّبِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ ‏.‏
ایوب ، مالک بن مغول ، ابن جریج ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے بارے میں نافع سے روایت کردہ لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا ( پکا کر ) لایا گیا تو آپ نے اسے کھا یا نہ حرام قرار دیا ۔ اسامہ کی حدیث میں کہا : ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 34 · The Book of Hunting, Slaughter, and what may be Eaten

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔