سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 4981

نمبر 4981کتاب 34، نمبر 10عربی نمبر شمار 1929.10
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلاَّ أَثَرَ سَهْمِكَ فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلاَ تَأْكُلْ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہرنے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " جب تم اپناکتا ( شکار پر ) چھوڑ وتو بسم اللہ پڑھو ، اور اگر وہ تمہارے لئے شکار کو جکڑ لے اور تم اس ( شکار ) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کردو ، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو ۔ تواس کو بھی کھالو ، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو ، تو اس کو نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو ، پھر اگرف ایک دن تک وہ ( شکار ) تمھیں نہ ملے ( بعد میں ملے ) اور تمھیں اس میں ا پنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھالو ، اور اگر وہ تمھیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 34 · The Book of Hunting, Slaughter, and what may be Eaten

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔