سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 4916

نمبر 4916کتاب 33، نمبر 211عربی نمبر شمار 1902
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ، بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمَ ‏.‏ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے ، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے ، سنا : وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ( ہوتے ) ہیں ۔ " یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا : میں تمہیں ( الوداعی ) سلام کہتا ہوں ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا ، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 33 · The Book on Government

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔