نمبر 4511کتاب 31، نمبر 13عربی نمبر شمار 1726.01
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " .
عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دھوئے مگر اس کی اجازت سے۔ کیا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں کوئی آئے اور اس کا خزانہ توڑ کر اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن ان کے خزانے ہیں کھانے کو تو کوئی نہ دوھوہے کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے۔ ( مگر جو مرتا ہو مارے بھوک کے وہ بقدر ضرورت کے دوسرے کا کھانا بعیر اجازت کے کھا سکتا ہے۔ لیکن اس پر قیمت لازم ہوگی اور بعض سلف اور محدثین کے نزدیک لازم نہ ہوگی۔ اگر مردار بھی موجود ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ بعضوں کے نزدیک مردار کھالے اور بعضوں کے نزدیک غیر کا کھانا۔)
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔