سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 709

نمبر 709کتاب 3، نمبر 31عربی نمبر شمار 310
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاقَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ ‏.‏ فَقَالَ لِعَائِشَةَ ‏ "‏ بَلْ أَنْتِ فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاكِ ‏"‏ ‏.‏
اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ جو ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 3 · The Book of Menstruation

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔