سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 4165

نمبر 4165کتاب 24، نمبر 3عربی نمبر شمار 1620.03
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَشْتَرِهِ وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا ، چنانچہ انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے مت خریدو ، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے ، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کے جیسی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے ( چاٹتا ہے)

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 24 · The Book of Gifts

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔