نمبر 4103کتاب 22، نمبر 142عربی نمبر شمار 715.18
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي - قَالَ - فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ - فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بِعْنِيهِ " . فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ - قَالَ - قُلْتُ عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ . قَالَ " وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " . قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي .
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا ، وہ اچھل پڑا ۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابو نہ پا رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا : " یہ مجھے بیچ دو ۔ " میں نے وہ ( اونٹ ) آپ کو پانچ اوقیہ ( چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی ) کے عوض فروخت کر دیا ۔ میں نے کہا : اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) میرے لیے ہو گی ۔ آپ نے فرمایا : " مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) تمہاری ہو گی ۔ " کہا : جب میں مدینہ پہنچا ، اس ( اونٹ ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ ( طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ ) زائد دیا ، پھر آپ نے مجھے ( اونٹ بھی ) ہبہ کر دیا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔