نمبر 4085کتاب 22، نمبر 124عربی نمبر شمار 1595
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ صَاعَىْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَىْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ " .
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں ( ہمارے حصے میں ) عام کھجور دی جاتی تھی اور وہ ملی جلی کھجور ہوتی تھی تو ہم اس کے دو صاع کے عوض ایک صاع کا سودا کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : " کھجور کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں ، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں اور نہ ایک درہم دو درہموں کے عوض ( جائز ہے ۔)
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔