مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ (دینار سے) درہم بدل کر کون دے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ نے، جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کہا : مجھے اپنا سونا دکھاؤ، پھر (بعد میں) آؤ، جب ہمارا خادم آ جائے گا، تو ہم تمھیں تمھاری چاندی دے دیں گے۔ یہ سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم اسے اس کی چاندی دے دوگے یا پھر اس کا سونا واپس کر دوگے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”چاندی سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ گیہوں گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ جَو جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے“۔
جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔
عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔