سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 3782

نمبر 3782کتاب 20، نمبر 13عربی نمبر شمار 1504.07
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ‏.‏ أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏ وَاشْتَرَطُوا الْوَلاَءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے بریرہ کو کچھ انصاریوں سے خریدا، جنھوں نے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط رکھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے“۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (نکاح کو باقی رکھنے کے متعلق) اختیار دیا۔ ان کے شوہر غلام تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا؛ لیکن ہمارے لیے (صدقہ نہیں) ہدیہ ہے“۔

ترجمہ: HadeethEnc.comاس کی تشریح

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 20 · The Book of Emancipating Slaves

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔