نمبر 661کتاب 2، نمبر 127عربی نمبر شمار 285
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاقَ - قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَهْ مَهْ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ " . فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ .
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی ، کہا : مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نےبیان کیا ، وہ اسحاق کےچچا تھے ، کہا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران میں ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نےکہا : کیا کر رہے ہو ؟ کیاکر رہے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( درمیان میں ) مت روکو ، اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نےاسے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایااور فرمایا : ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ‘ ‘ یا جو ( بھی ) الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا ، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔