سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 3502

نمبر 3502کتاب 16، نمبر 103عربی نمبر شمار 1428.01
قَالَ أَنَسٌ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلاَنِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ‏"‏ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ ‏"‏ بِخَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بہز نے حدیث سنائی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( بہز اور ابونضر ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ یہ بہز کی حدیث ہے ۔ کہا : جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : "" اِن ( زینب رضی اللہ عنہا ) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو ۔ "" کہا : تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں ، کہا : جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( کے ساتھ شادی ) کا ذکر کیا تھا ، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا : زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ ( استخارہ ) کر لوں ، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور ( ادھر ) قرآن نازل ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے ۔ ( سلیمان بن مغیرہ نے ) کہا : ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا ۔ اس کے بعد ( اکثر ) لوگ نکل گئے ، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد ( آپ کے ) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے ) نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے ۔ وہ ( جواب دے کر ) کہتیں : اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( نئی ) اہلیہ کو کیسا پایا؟ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا ۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور ( اس وقت ) حجاب ( کا حکم ) نازل ہوا ، کہا : اور لوگوں کو ( اس مناسبت سے ) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( آنے کی ) اجازت دی جائے ، اس حال میں ( آؤ ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو ( کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ ) "" سے لے کر اس فرمان تک : "" اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 16 · The Book of Marriage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔