سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 3500

نمبر 3500کتاب 16، نمبر 102عربی نمبر شمار 1365.05
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمَ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ - قَالَ - وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دَحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ - قَالَ - وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ فُحِصَتِ الأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ - قَالَ - وَقَالَ النَّاسُ لاَ نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ‏.‏ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا ‏.‏ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَفَعْنَا - قَالَ - فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ ‏
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا ، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا ۔ کہا : ہم ( صفحہ نمبر 67 پی ڈی ایف فائل میں نہیں ہے ) رفتار تیز کر لی ، کہا : اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پالان سے ) نکل گئے اور وہ ( سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ) بھی نکل کر گر گئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا ، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں ، کہنے لگیں : اللہ یہودی عورت کو دور کرے ۔ ( ثابت نے ) کہا : میں نے کہا : اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں اللہ کی قسم! آپ گر پڑے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اور میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی شرکت کی تھی ۔ آپ نے لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا تھا ، آپ مجھے بھتیجے تھے میں لوگوں کو ( کھانے کے لیے ) بلاتا تھا ۔ جب آپ فارغ ہوئے ، تو کھڑے ہو گئے اور میں نے بھی آپ کی پیروی کی ، پیچھے دو آدمی رہ گئے ، باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگائے رکھا ۔ وہ دونوں نہ نکلے ۔ آپ نے ( چلتے ہوئے ) اپنی ازواج مطہرات کے پاس جانا شروع کیا ۔ آپ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے ، ( فرماتے ) "" تم پر سلامتی ہو ، گھر والو! آپ کیسے ہو؟ "" وہ جواب دیتے : اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں ۔ آپ نے اپنے اہل ( نئی اہلیہ ) کو کیسا پایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے : "" خیر و ( عافیت ) کے ساتھ ۔ "" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو واپس ہوئے ، میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا ، جب آاپ دروازے پر پہنچے تو آپ نے اُن دو آدمیوں کو دیکھا ( کہ ) باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگا رکھا ہے ، جب ان دونوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو وہ دونوں اٹھے اور چلے گئے ۔ اللہ کی قسم! ( اب ) مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا یا آپ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں ۔ آپ واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ۔ پھر آپ نے اپنا پاؤں دروازے کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں مت داخل ہو اِلا یہ کہ تمہیں ( اس کی ) اجازت دی جائے

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 16 · The Book of Marriage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔