سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 3387

نمبر 3387کتاب 15، نمبر 591عربی نمبر شمار 1398.01
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ قَالَ أَبِي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ فَضَرَبَ بِهِ الأَرْضَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ - لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ - قَالَ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ ‏
حمید خراط سے روایت ہے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے سنا انھوں نے کہا : عبد الرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا : آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیا د تقویٰ پر رکھی گئی ، کس طرح ذکر کرتے ہو ئے سنا؟ انھوں نے کہا : میرے والد نے کہا : می رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حا ضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول !دونوں مسجدوں میں سے کو ن سی ( مسجد ) ہے جس کی بنیا د تقوی پر رکھی گئی ہے؟ کہا : آپ نے مٹھی بھر کنکریاںلیں اور انھیں زمین پر مارا پھر فرما یا : " وہ تمھا ری یہی مسجد ہے ۔ مدینہ کی مسجد کے بارے میں ( ابو سلمہ نے ) کہا : تو میں نے کہا : میں گو اہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمھا رے والد سے سنا ، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · The Book of Pilgrimage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔