سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 3082

نمبر 3082کتاب 15، نمبر 288عربی نمبر شمار 1277.04
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا‏}‏ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پو چھا : اور ( آگے ) اسی ( سفیان کی ابن شہاب سے ) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صفامروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا : کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · The Book of Pilgrimage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔