سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2961

نمبر 2961کتاب 15، نمبر 170عربی نمبر شمار 1222
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ‏.‏
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع ( کرنے ) کافتویٰ دیاکرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اپنےبعض فتووں میں زرا رک جاؤ ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مناسک ( حج ) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے ۔ بعد میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے دریافت کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( حکم صادر ) کیا ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اس پرعمل ) کیا ، لیکن مجھے یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں ( یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں ) اپنی عورتوں کےساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ پھر جب وہ ( آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی ) صبح حج کے لئے چلیں تو ( غسل جنابت کریں اور ) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · The Book of Pilgrimage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔