سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2929

نمبر 2929کتاب 15، نمبر 138عربی نمبر شمار 1211.20
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ - قَالَتْ - فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْىَ فَأَحْلَلْنَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - قَالَتْ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ ‏"‏ أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ قَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ بَأْسَ انْفِرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ ‏.‏
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · The Book of Pilgrimage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔